counter create hit
426718_4176063332247_2106561342_n

جدوجہد آزادی کشمیر

یوم یکجہتی کشمیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جدوجہد آزادی کشمیر ۔۔ کا تاریخی پس منظر
کشمیری صدیوں سے غیر ملکی تسلط اور قابض حکمرانوں کے مظالم کے شکار رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہ ہاری، ان کو ایمان فروشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن تحریک آزادی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔ 1586ء سے 1752ء تک کشمیر پر مغلوں کی حکومت رہی، لیکن مغلوں نے محلات اور باغات کی تعمیر کے علاوہ کوئی دوسرا خاص کارنامہ سرانجام نہ دیا۔ 1752ء سے 1819ء تک افغان اس خطے پر مسلط رہے جنہوں نے کشمیریوں کی دولت کو وہاں سے باہر منتقل کر دیا جس طرح انگریزوں اور ان کی پروردہ ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیوں نے برصغیر کی دولت کو لوٹ کر ولایت منتقل کر دیا، ان کا لوٹا ہوا ہیرا جو برصغیر کی ملکیت ہے آج بھی ملکہ برطانیہ کے پاس موجود ہے یہی کوہ نور ہیرا ہے جو ملکہ کے تاج کی زینت بنا ہے۔ 1819ء سے 1846ء تک کشمیر کو سکھوؤں نے اپنی کالونی بنائے رکھا اورعوام پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ اور پھر ایک ایسا مرحلہ بھی آیا کہ تاریخ کا ایک بدترین سودا ہوا، انگریزوں نے صرف 75 لاکھ نانک شاہی سکوں میں کشمیر کی سرزمین اور انسانوں کو ڈوگروں کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس سے بڑی انسانی حقوق کی اور کیا خلاف ورزی ہو گی کہ انسانی حقوق کے علمبردار کہلائے جانے والے انگریزوں نے انسانوں کا سودا کیا۔ 100 سال تک ڈوگروں نے کشمیریوں کو بدترین غلامی کا شکار بنائے رکھا۔ انھوں نے ہوا کے بغیر ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا، اگر کوئی بچہ پیدا ہوتا تو ٹیکس ادا کرنا پڑتا اور کوئی موت واقع ہوتی تو اس کے لواحقین ٹیکس جمع کراتے، اس سے قبل قحط سالی نے کشمیریوں کو گردو نواح کے علاقوں میں ہجرت پر مجبور کر دیا تھا۔ کشمیر جو دنیا کی زرخیز ترین سرزمین ہے جہاں قدرتی وسائل کی بہتات ہے جہاں کی زمین حقیقت میں سونا اگلتی تھی خون سے لالہ زار بن چکی ہے۔ یہ ڈوگروں کے مظالم ہی تھے جن کے باعث کشمیری اٹھ کھڑے ہوئے اور 13 جولائی 1931ء کو 22 نوجوانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر شہادتیں پیش کیں لیکن وہ جھکے نہیں۔ ان شہداء کے خون کا قرض ان کے بعد 5 لاکھ شہداء نے چکا دیا۔ 1947ء میں لاکھوں کشمیریوں کو پاکستان بھیجنے کے بہانے شہید کیا گیا اور جموں سیالکوٹ کی گذر گاہیں، نالے انسانوں کے خون سے بھر گئے۔ 10 اکتوبر 1947ء کو برطانوی اخبار لندن ٹائمز نے لکھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی نگرانی میں 2 لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو جموں اور اس کے گردو نواح میں شہید کیا۔ اسٹیٹس مین اخبار کے ایڈیٹر ریان سٹیفن نے اپنی کتاب Horned Moon میں لکھا ہے کہ ڈوگرہ مہاراجہ نے 1947ء کے خزاں تک 2 لاکھ مسلمانوں کو قتل کرا دیا تھا۔برصغیر کے مسلمانوں نے ہمیشہ کشمیریوں کے دکھ و درد کو محسوس کیا اور اس پر عملی اقدامات کئے۔ 13 جولائی 1931ء کو سرینگر میں مسلمانوں کے قتل عام نے لاہور میں سب کو غمگین کر دیا، لاہور میں ہی فوراً آل انڈیا کشمیر کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا واحد مقصد کشمیریوں کی تحریک آزادی کی عملی امداد کرنا تھا۔اس وقت لوگ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد سے زیادہ مادی اور عملی امداد پر یقین رکھتے تھے۔ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی نے ہندوستانی مسلمانوں کو تحریک پاکستان کے لئے بھی ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ مفکر اسلام عظیم فلاسفر اور دانشورڈاکٹر علامہ اقبال کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا اس دوران آل انڈیا مسلم لیگ نے ایک قرارداد کشمیریوں کی حمایت میں منظور کی۔ حالات تیزی سے بدل رہے تھے لیڈر شپ میدان میں آ چکی تھی یہ لیڈر شپ مخلص، ہمدرد اور قوم پر مرمٹنے والی تھی، شو مئی قسمت آج کی لیڈر شپ قوم کو خود پر مارنے اور مٹانے کے درپے رہتی ہے۔مئی 1936ء کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیریوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے سرینگر کا دورہ کیا۔ انہوں نے کشمیریوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔ قائداعظم کو اندازہ تھا کہ ڈوگرہ حکمران مسلمانوں کے عقیدے اور اقدار کے برخلاف اقدامات کریں گے۔ قائداعظم کے دورے کے بعد جواہر لعل نہرو نے بھی سرینگر کا دورہ کیا۔ حالانکہ وہ خود کشمیری تھا لیکن 1931ء کے قتل عام کے بعد اسے مقبوضہ وادی آنے کی توفیق نہ ہوئی جس پر کشمیری مسلمان برہم تھے۔ مسلم کانفرنس نے نہرو کے خلاف احتجاج کیا جبکہ قائداعظم کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔ قائداعظم نے جون 1944ء کو سرینگر کا دوسرا دورہ کیا۔ انہوں نے مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کو اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی۔ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے قائداعظم سے ملاقات نہ کی۔ وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے درپے تھے جبکہ قائداعظم مسلمانوں کو متحد ہو کر جدوجہد آزادی تیز کرنے کی طرف لے جا رہے تھے۔ مہاراجہ کا قائداعظم سے ملاقات نہ کرنا قدرتی بات تھی۔ قائداعظم کے اثرات ختم کرنے کیلئے 1945ء کو نہرو نے بھی سرینگر کا دورہ کیا۔شیخ محمد عبداﷲ نے نہرو کا استقبال کیا اور دریائے جہلم پر نہرو کے حق میں جلوس نکالا۔ اس جلوس پر مسلم کانفرنسیوں نے پتھراؤ کیا اور جوتے پھینکے۔ بش کی طرح نہروجوتوں کے حملے میں بال بال بچ گئے لیکن کشمیریوں کوقائداعظم کیساتھ تعاون اور عقیدت کی سزا دینے کا ایک دور شروع ہوا جو نہرو خاندان نے جاری رکھا۔ اندراگاندھی ،راجیو گاندھی اور اب ان کے جانشین نہروپرجوتوے برسانے کا انتقام کشمیریوں سے لے رہے ہیں۔ کشمیریوں کے خلاف مظالم کے تمام حربے آزمالئے ہیں۔ کشمیریوں کو قتل کیاجارہا ہے۔ انہیں کالے قوانین کے تحت جیلوں اور اذیت خانوں میں تھرڈڈگری ٹارچر کیاجاتا ہے۔ ان پر گرم استریاں پھیری جاتی ہیں انہیں چولہوں پر بیٹھایاجاتا ہے۔ ان کے مکانات کو زمین بوس کیاجاتا ہے۔ ان کے تجارتی مراکز کو نذرآتش کرکے معیشت کو تباہ کیا جاتا ہے۔ دوران انٹروگیشن ان کو چیرا پھاڑا جاتا ہے۔ ان کی عزتوں اور پاکدامن خواتین کی عصمتوں کو پامال کیا جاتا ہے لیکن ثابت ہوگیا کہ کشمیری ان مظالم سے جھکے نہیں ۔ان میں انتقام کی آگ مزید بھڑکی۔ ان کو آزادی کا شدت سے احساس ہوا اورمصیبت کے اس دور میں اگر کوئی یک جہتی کرے تو اس سے ہمت واستقامت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ روایتی نہیں بلکہ غیرروائیتی اور عملی یکجہتی اور تعاون کیا جائے۔ کشمیریوں کی آزادی پاکستان پر قرض ہے۔ بعض ناسمجھ کشمیرکو پاکستان پر بوجھ قرار دیتے ہیں۔ اگر سندھ طاس معاہدے کے غیراصولی معاہدے کی طرح کشمیریوں کی غلامی اور مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے کے بدلے میں کوئی معاہدہ کرلیاگیا تو اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو سندھ طاس معاہدے کا ہوا ہے۔

دنیاکے سامنے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا اعلان کیا گیا اور قراردادوں پر دستخط کئے گئے لیکن60سال گزرنے کے باوجود ان قرارداوں پر عمل نہیں کیاگیا جبکہ ان تمام حالات میں کشمیر پر فوجی قبضے کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ تاشقند، شملہ، اعلان لاہور جیسے معاہدوں سے قبل اقوام متحدہ میں جو بھی معاہدے اور دعوے ہوئے ان پر عمل نہیں کیاگیا۔ عالمی ثالث نے سندھ طاس معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن جہلم، چناب، نیلم جیسے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرکے پانی کو روک دیا جاہے۔ ان دریاؤں پر ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جو کشمیر کے عوام کو سپلائی کرنے کے بجائے ناردرن گرڈ سے بھارتی ریاستوں کودی جاتی ہے اور کشمیر اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے۔ غیراعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ سے کشمیریوں کی معیشت کو تباہ حال کردیاگیا ہے

وقت کا تقاضا ہے کہ فوج کے انخلاء، تمام قیدیوں کی رہائی، کالے قوانین کا خاتمہ، کشمیریوں کے درمیان اتحاد کے لئے کوششیں کی جائیں۔ یہ وقت کسی کی حمایت اور کسی کو دیوار سے لگانے کا نہیں۔ کشمیریوں کو کسی ایک پارٹی، تنظیم، خطے، ذات، حکمران، علاقے، مسلک کے عملی تعاون کی ضرورت نہیں بلکہ تمام اپنے تمام تر اندرونی اختلافات اور مسائل کے باوجود کشمیر کاز کے لئے بڑھ چڑھ کر پہلے سے بھی زیادہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان میں 1947ء سے اب تک 30 لاکھ سے زیادہ کشمیری مہاجرین آباد ہیں۔ ان کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان بھر میں جگہ جگہ یوم یک جہتی کشمیر کے حوالے سے تقریبات منعقد ہو تی ہیں۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے زیر اہتمام وفاقی دارالحکومت میں کشمیر کنونشن ہوتا ہے۔ کوہالہ اور آزاد کشمیر کو پاکستان سے ملانے والے پلوں پر انسانی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کے درمیان مضمون نویسی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا عزم کرتی ہے اور تحریک آزادی کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کا تجدید عہد کیا جاتا ہے۔

Muhammad Shoaib Tanoli ‎(محمد شعیب تنولی)‎

Interesting Here

INCPak

INCPak Completes 4 years on the web 16th November 2016

Independent News Coverage Pakistan (INCPak) website went online on 16th November, 2012 – To Unite …

Loading Facebook Comments ...

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Loading Disqus Comments ...